دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی سے بحیرہ عرب کے ساحلوں تک — قدیم تہذیبوں، بلند پہاڑوں، شاعری اور بے مثال جذبے کی سرزمین۔
سیر شروع کریں ↓پاکستان کی دھرتی صدیوں کی تاریخ سموئے ہوئے ہے۔ وادیِ سندھ کی تہذیب — انسانیت کی پہلی عظیم شہری تہذیبوں میں سے ایک — یہاں روم سے بھی ہزاروں سال پہلے پروان چڑھی۔ گندھارا، ٹیکسلا اور شاہراہِ ریشم نے اس خطے کو دنیا کی کہانی کا حصہ بنایا۔
پاکستان میں صحرا، ڈیلٹا، سرسبز وادیاں اور دنیا کی چودہ بلند ترین چوٹیوں میں سے پانچ موجود ہیں۔ عظیم دریائے سندھ پورے ملک میں بہتا ہے اور پنجاب اور سندھ کے میدانوں کو سیراب کرتا ہے۔
کے ٹو (۸۶۱۱ میٹر) کا مسکن — قطبین کے باہر سب سے زیادہ گلیشیئر اور بلند چوٹیاں یہیں ہیں۔
قوم کی شہ رگ — ہمالیہ سے بحیرہ عرب تک ۳۱۸۰ کلومیٹر کا سفر۔
خوبانی کے پھول، فیروزی دریا اور ایسی وادیاں جنہیں زمین پر جنت کہا جاتا ہے۔
سنہرے صحرا اور ساحلِ مکران کے دلکش نظارے۔
مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں بسا سرسبز اور جدید دارالحکومت، جہاں عظیم الشان فیصل مسجد ہے۔
سب سے بڑا شہر اور معیشت کا انجن — بحیرہ عرب کا بندرگاہی شہر جو کبھی نہیں سوتا۔
ثقافت کا دل: بادشاہی مسجد، شاہی قلعہ، شالیمار باغ اور بے مثال فوڈ سٹریٹ۔ "جنے لاہور نئیں ویکھیا او جمیا ای نئیں!"
جنوبی ایشیا کے قدیم ترین زندہ شہروں میں سے ایک — دو ہزار سال سے قافلوں اور قصہ خوانوں کا دروازہ۔
نصرت فتح علی خان صوفیانہ کلام کو دنیا بھر میں لے گئے؛ آج کوک اسٹوڈیو یہ مشعل تھامے ہوئے ہے۔
علامہ اقبال — قومی شاعر اور مفکرِ پاکستان — اور فیض احمد فیض، محبت اور مزاحمت کی آواز۔
چلتے پھرتے شاہکار — پاکستان کی شاہراہیں ہاتھ سے بنے رنگوں، خطاطی اور مزاح کی گیلریاں ہیں۔
قومی جنون۔ ۱۹۹۲ کے ورلڈ چیمپیئن، ۲۰۰۹ کے ٹی ٹوئنٹی چیمپیئن — اور ہر گلی میں ٹیپ بال کے خواب۔
گلیشیئر ٹریکنگ سے مغلیہ فنِ تعمیر تک — پاکستان کے سب سے پسندیدہ مقامات کی ایک جھلک۔
| مقام | علاقہ | بہترین موسم | کس چیز کے لیے مشہور |
|---|---|---|---|
| وادیِ ہنزہ | گلگت بلتستان | اپریل تا اکتوبر | خوبانی کے پھول، راکاپوشی کے نظارے |
| سکردو | گلگت بلتستان | مئی تا ستمبر | کے ٹو کا دروازہ، دیوسائی کے میدان |
| وادیِ سوات | خیبر پختونخوا | مارچ تا نومبر | دریا، سبزہ زار، مالم جبہ سکی ریزورٹ |
| اندرونِ لاہور | پنجاب | اکتوبر تا مارچ | مغلیہ فنِ تعمیر، فوڈ سٹریٹ |
| ساحلِ مکران | بلوچستان | نومبر تا فروری | کنڈ ملیر ساحل، ہنگول نیشنل پارک |
| فیری میڈوز | گلگت بلتستان | جون تا ستمبر | نانگا پربت بیس کیمپ کے نظارے |
قائداعظم — بانیِ پاکستان۔ "اتحاد، ایمان، تنظیم"۔
مشرق کے شاعرِ فلسفی جنہوں نے پاکستان کا خواب دیکھا۔
دنیا کے عظیم ترین انسان دوست — ایدھی فاؤنڈیشن ایمبولینس نیٹ ورک کے بانی۔
کم عمر ترین نوبیل امن انعام یافتہ — بچیوں کی تعلیم کی عالمی آواز۔
شہنشاہِ قوالی — صوفی موسیقی کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا۔
۱۹۹۲ ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے کپتان۔
پاکستان کے پہلے نوبیل انعام یافتہ — فزکس، ۱۹۷۹۔
ایورسٹ اور کے ٹو سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون۔
دو عظیم خوشیاں — نئے کپڑے، خاندانی دعوتیں اور سب کے لیے صدقہ و خیرات۔
۱۴ اگست — ہر چھت پر جھنڈے، پریڈ اور ہر طرف سبز اور سفید رنگ۔
لاہور کا مشہور بہار کا تہوار — پتنگوں سے رنگ بھرا آسمان۔
دنیا کا بلند ترین پولو گراؤنڈ، ۳۷۰۰ میٹر کی بلندی پر — چترال بمقابلہ گلگت، ۱۹۳۶ سے۔
لعل شہباز قلندر اور داتا گنج بخش کے مزاروں پر دھمال اور عقیدت۔
اپریل میں ہنزہ — برفیلی چوٹیوں تلے گلابی اور سفید باغات۔
پاکستانی کھانے ذائقے دار، دل کھول کر پیش کیے جانے والے اور ناقابلِ فراموش ہیں۔
خوشبودار، مصالحے دار اور ہمیشہ بحث طلب — کراچی والی بریانی بمقابلہ باقی سب۔
صبح سویرے دھیمی آنچ کی نہاری؛ رات کو سیدھی کڑاہی سے گرما گرم۔
تندور کا تازہ نان اور دودھ پتی چائے کے لامتناہی کپ — روزمرہ زندگی کی دھڑکن۔
سندھڑی، چونسا، انور رٹول — پاکستانی آم یونہی تحفے میں نہیں بھیجے جاتے!
شمالی پہاڑی علاقوں (ہنزہ، سکردو، سوات) کے لیے: اپریل تا اکتوبر۔ شہروں اور جنوبی میدانوں (لاہور، کراچی) کے لیے: اکتوبر تا مارچ، جب موسم خوشگوار ہوتا ہے۔
پاکستانی روپیہ (₨)۔ بازاروں میں نقدی چلتی ہے؛ شہروں کے مالز اور ہوٹلوں میں کارڈ بھی قبول ہوتے ہیں۔
اردو قومی زبان ہے اور انگریزی کاروبار اور تعلیم میں عام ہے — اس کے علاوہ پنجابی، سندھی، پشتو اور بلوچی سمیت ۷۰ سے زائد علاقائی زبانیں بولی جاتی ہیں۔
پہلے کراچی کی بریانی، پھر آدھی رات کو لاہوری کڑاہی، اور صبح دودھ پتی چائے۔ آم کا موسم (مئی تا ستمبر) تو کسی صورت نہ چھوڑیں!
سفر کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، تحقیق کر رہے ہیں یا بس تجسس ہے؟ پیغام بھیجیں (نمونہ فارم)۔